12 دسمبر 2011 - 20:30

آل سعود سے وابستہ روزناموں نے قیدیوں کی رہائی، ملک میں اصلاحات اور سرکاری مظالم کی مذمت نیز قطیف میں شیعہ مظاہرین کی حمایت کے حوالے سے ساٹھ قانوندانوں کے بیان کو ملک دشمن اقدام قرار دیتے ہوئے قانوندانوں کے اس گروپ کو "ایرانی ـ سعودی لابی" کا نام دیا ہے۔

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق الشرق الاوسط کے چیف ایڈیٹر طارق الحمید نے "العوامیہ سے لندن تک" کے زیر عنوان مضمون میں لکھا: اس بیان پر دستخط کرنے والے "ایرانی سعودی لابی" کے اراکین ہیں اور یہ لوگ ایران کی تشہیری مشین کا حصہ ہیں!۔روزنامہ "الاقتصادیہ" کے چیف ایڈیٹر سلمان الدوسری نے بیان پر دستخط کرنے والوں کو "کودتا" کرنے والے عناصر کا نام دیتے ہوئے قانوندانوں پر الزام لگایا کہ وہ ان بیانات کے ذریعے سعودی عرب میں بیرونی مداخلت کے لئے ماحول بنا رہے ہیں کیونکہ انھوں نے اپنے بیان میں القطیف میں چار مقتولین کے قتل کی تحقیقات کے لئے فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی کی تشکیل کا مطالبہ بھی کیا ہے اور اس کا مطلب یہ ہے کہ ان قانوندانوں نے بیرونی فریقوں کو بھی ملک میں مداخلت کی دعوت دی ہے۔ روزنامہ الجزیرہ کے چیف ایڈیٹر خالد المالک نے بھی قانوندانوں کے بیان کو سعودی عرب کی سلامتی اور استحکام میں خلل ڈالنے کی کوشش قراردینے ہوئے لکھا کہ یہ بیان پیشگی متعینہ مقاصد کے تحت لکھا گیا ہے۔ .....

/110

سعودی عرب: انقلابی تحریک بدستور جاری ہے/ آل سعود کی حکومت ختم ہونی چاہئے